اس موضوع پر ہماری فیس بک کی تحریروں کا مجموعہ ہے کہ جنہیں تہذیب و تصحیح کے بعد شائع کیا جا رہا ہے۔ اس کتابچے کا شان نزول یہ ہے کہ کتاب وسنت ویب سائیٹ اردو زبان میں مذہبی کتب کا سب سے بڑا آن لائن ڈیٹا بیس (online database) ہے۔ اس ویب سائیٹ پر ہزاروں کتب پی ڈی ایف (pdf) فارمیٹ میں ڈاؤن لوڈنگ کے لیے فری دستیاب ہیں۔ اور قارئین تک اس برقی کتاب (e-book) کو مفت پہنچانے کے لیے ادارے کے لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ تو کتب کی خریداری، ان کو اسکین کرنے کے لیے قیمتی ساز وسامان (equipment) مثلاً اسکینرز اور کمپیوٹرز وغیرہ کی خریداری، کتابوں کو آن لائن رکھنے کے لیے جگہ یعنی سائیٹ کا سالانہ خرچ، بہترین انٹرنیٹ کنکشن کا ماہانہ خرچ، اور مزید یہ کہ ان کتب کو اسکین کر کے آن لائن کرنے کے لیے ادارہ ایک پوری ٹیم کی تنخواہیں ادا کر رہا ہوتا ہے۔ پس آپ کو ای بُک فری میں ملتی ہے لیکن اس پر کافی خرچ اور محنت ہوئی ہوتی ہے۔

کتاب وسنت ویب سائیٹ پر ان برقی کتب کو اپ لوڈ کرنے پر پبلشرز کی ایک جماعت عرصہ دراز سے ادارے سے نالاں تھی اور بعض تو اسے حقوق کی خلاف ورزی بھی کہہ رہے تھے۔ پچھلے دنوں ایک دوست نے ایک واٹس ایپ گروپ میں اس موضوع پر ہونے والی علمی بحث کا خلاصہ اپنی وال پر پیش کیا ہے کہ جس میں پبلشر حضرات کی رائے بھی براہ راست سامنے آ گئی ہے۔ تو یہ کتابچہ اس رائے پر ایک مفصل علمی تبصرہ ہے۔ تو کاپی رائٹس کے قوانین عصر حاضر کی بدعات میں سے ہیں جو عالم اسلام میں بھی بد قسمتی سے رائج ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ راقم الحروف نے اپنی بیس سے زائد تحقیقی کتب اور دو سو سے زائد ریسرچ آرٹیکلز آن لائن پبلش کر رکھے ہیں۔ راقم کی یہ عادت ہے کہ کسی کتاب کی ہارڈ کاپی کی صورت میں اشاعت سے پہلے ہی اس کی سافٹ کاپی انٹرنیٹ پر فراہم کر دیتا ہے۔ اور اہل علم اور داعیان دین کی ایک بڑی جماعت بھی اسی روش پر عمل پیرا ہے۔ اللہ عزوجل سب کی کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔