بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایک انڈین وزیر نے یہ بیان دیا کہ اگر بیوی اپنے شوہر کی خواہش پوری کرنے سے انکار کر دے تو اسے قانون کی نظر میں بیوی کی طرف سے شوہر پر ”جنسی طور ہراساں کرنا“ (sexual harassment) قرار دیا جائے۔ بہرحال ویمن رائٹس والوں نے شور مچا کر اس بات کو دبوا دیا۔بات یہی ہے کہ اگر آپ یوں قانون سازی کرنا شروع کر دیں گے کہ شوہر اپنی بیوی سے زبردستی کرے تو یہ ”ریپ“ (rape) ہو گا تو اس کے نتیجے میں ایسی قانون سازی بھی عقلی اور منطقی ہی کہلائے گی کہ اگر بیوی اپنے شوہر کو انکار کرے تو اسے ”جنسی تشدد“ قرار دیا جائے۔ مرد اور عورت کے حقوق کی خاطر اس طرح کی قانونی لڑائیوں کا کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہے۔اور یہ بات درست ہے کہ میاں بیوی کے تعلقات جب خراب ہوتے ہیں تو اکثر عورتیں اپنے شوہر کی جنسی خواہش کی کمزوری کو ایکسپلائٹ کرتی ہیں اور اسے اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کرنے کے لیے اسے ایک ہتھیار کے طور استعمال کرتی ہیں۔ اور مرد اس بات کو خوب محسوس کرتے ہیں کہ اس سے ان کی جنسی فرسٹریشن (sexual frustration) میں اضافہ ہوتا ہے۔

اب یہاں مرد اگر دنیا دار ہو تو ضد میں اپنی خواہش باہر سے پوری کر لیتا ہے لیکن بیوی کے سامنے جھکتا نہیں ہے۔ بعد میں جب وہ خواہش باہر سے پوری کرنے کا عادی ہو جاتا ہے تو بیوی درس قرآن کی کلاسز لینا شروع کر دیتی ہے اور مظلوم بن کر یہ فتوے پوچھتی پھرتی ہے کہ ایسے شوہر کے ساتھ رہنا جائز ہے کہ نہیں کہ جس کے غیر محرم عورتوں سے ناجائز تعلقات ہوں۔اور شوہر اگر دیندار ہو تو طلاق کی طرف نکل جاتا ہے۔ اسی لیے ہمارے دین میں بیوی کے اپنے شوہر کو انکار کو اتنا بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے کہ ساری رات فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔ عورتوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ دین کا یہ حکم ان کی بھلائی میں ہے، سو فی صد بھلائی ہے۔ وہ اس پر عمل نہ کر کے تو دیکھیں، یا گھر ٹوٹ جائے گا یا شوہر آوارہ ہو جائے گا، تیسری کوئی آپشن نہیں ہے۔