اگر میاں بیوی میں محبت و نفرت کا تعلق (love-hate relationship) پیدا ہو جائے تو اس نفرت کو ختم کرنے کی ایک اچھی تدبیر یہ ہے کہ وہ آپس میں چِپک کر محض سویا کریں کہ جسم کے مَس کرنے سے نفرت کی دیوار کی بنیادیں کھوکھلی ہوتی ہیں۔ اور یہ ایک نفسیاتی تجزیہ تھا۔ بہرحال اس پر بعض دوستوں نے یہ کہا کہ میاں بیوی میں محض سونا تو ایک مذاق کی بات ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ میاں کے مسائل شروع ہو جاتے ہیں۔ تو میں پہلے بھی عرض کر چکا کہ ہم لوگ ابھی سوچ رہے ہیں کہ ہمیں ازدواجی رویوں (sexual behaviors) پر گفتگو کرنی بھی چاہیے یا نہیں اور مغربی دنیا ان پر کافی ریسرچ کر کے تھیوریز دینے کی پوزیشن میں آ چکی بلکہ دے رہی ہے۔ اور ہمارے پاس اسلامی تناظر میں اس موضوع پر بات کرنے کے لیے سوائے اس کے کچھ نہیں کہ یہ بھی بات کرنے کا کوئی موضوع ہے کیا!

تو میاں بیوی آپس میں محض چپک کر سو سکتے ہیں اور یہ بالکل ممکن ہے بشرطیکہ ان کے ازدواجی تعلق میں باقاعدگی (regularity) ہو۔ انسان اگر ایک خاص وقت پر کھانا کھانے کو اپنی عادت بنا لے تو بے وقت کھانا سامنے آ جائے تو طبیعت اس پر مائل نہیں ہوتی۔ تو جنس بھی بھوک کی طرح ایک جبلت (instinct) ہے اور جبلت ہونے کے اعتبار سے دونوں کو منظم کرنا (regularize) کرنا ممکن ہے۔ کئی لوگوں کو کھانے میں اپنے آپ کو ریگولر کرنا مشکل لگتا ہے تو یہ کسی فرد کے اعتبار سے مشکل ہو سکتا ہے لیکن انسانوں کی ایک بڑی تعداد دن میں تین مرتبہ یا دو مرتبہ یا ایک مرتبہ ہی کھانا کھاتی ہے، ایسا نہیں ہے کہ جب چاہا چرنا شروع کر دیا۔ اس طرح اپنیجبلت کو تو حیوان بھی پورا کرتے ہیں اور ان میں بھی کچھ نظم ہوتا ہے۔ انسان ایک با شعور مخلوق ہے، اسے اپنی جبلتوں کو ایک نظام میں ایک ترتیب سے پورا کرنا چاہیے، اس میں کس کو اختلاف ہو سکتا ہے! جس طرح کھانے کی زیادتی جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے تو سیکس کی کثرت ذہنی صحت کے لیے نقصان کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیکس کی زیادتی کو ماہرین نفسیات کی ایک بڑی تعداد کے ہاں اخلاقی انتشار (behavior disorder) میں شمار کیا جاتا ہے۔

کنزے انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ (Kinsey institute of research in sex) کی ایک ریسرچ کے مطابق ۱۸ سے ۲۹ سال کی عمر کے جوڑے سال میں ۱۱۲ مرتبہ یعنی ہر تین دن بعد، ۳۰ سے ۳۹ سال کی عمر کے جوڑے سال میں ۸۶ مرتبہ یعنی چار دن بعد اور ۴۰ سے ۴۹ سال کے جوڑے سال میں ۶۹ مرتبہ یعنی پانچ دن بعد ازدواجی تعلق قائم کرتے ہیں۔ ایک اور ریسرچ کے مطابق ۱۵ سے ۲۰ فی صد جوڑے سال میں دس مرتبہ سے بھی کم مرتبہ ازدواجی تعلق قائم کرتے ہیں۔ تو قرآن مجید کا انداز اصولی ہے کہ کھانے پینے میں زیادہ پابندی نہیں لگائی لیکن اسراف سے منع کر دیا جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ﴿الأعراف: ۳۱﴾
ترجمہ: کھاؤ، پیو اور اسراف نہ کرو۔

تو دن میں دس مرتبہ کھانا کھانا منع تو نہیں ہے لیکن کھانے کی یہ بے قاعدگی مضر صحت ضرور ہے۔ تو جبلتوں کو کسی نظام میں لا کر مہذب بنانا تو یہ انسان سے مطلوب ضرور ہے کہ یہ خوداس کی صحت کے لیے بہتر ہے۔ اسی لیے جنس کی جبلت کو مہذب بنانے کے لیے بھی کچھ پابندیاں لگائی گئی ہیں جیسا کہ حیض کے دنوں میں تعلق قائم کرنے سے منع کیا گیا۔

تو عورتوں میں ازدواجی تعلق قائم کرنے سے جو آوازاری موجود ہوتی ہے،اس کی ایک بڑی وجہ مردوں کی طرف سے ازدواجی تعلق میں بے ضابطگی (irregularity) بھی ہے۔ عورت کی سوچ ہوتی ہے کہ مرد کا تو بس ہر وقت کا یہی مطالبہ ہوتا ہے۔ تو جب شوہر اس تعلق میں ریگولر ہو جاتا ہے تو عورت کی اس عمل سے آوازاری کسی حد تک کم ہو جاتی ہے کہ وہ اچانک تعلق کی خواہش سے بہت گھبراتی ہے۔ اور باقاعدہ تعلق (planned sex) کے لیے اس میں قبولیت (acceptance) زیادہ ہوتی ہے کہ وہ اس کے لیے ذہناً تیار ہوتی ہے بشرطیکہ شوہر اور بیوی میں تبادلہ خیالات (communication) اچھی ہو اور یہ سب معاملات تبادلہ خیالات سے طے ہوئے ہوں۔ اور جب عورت کو یقین ہو جائے گا کہ مرد اس معاملے میں ریگولر ہو گیا ہے تو پھر اسے مرد کے ساتھ سونے میں کوئی عدم تحفظ (insecurity) محسوس نہیں ہو گا کہ وہ ساتھ سونے سے بچنے کے لیے بہانے بنائے۔ البتہ ریگولر سیکس کا ایک نقصان بھی ہے کہ اگر کبھی کسی وجہ سے شوہر کی خواہش پوری نہ ہو سکے تو اس کا نفس زیادہ بے چین اور ہیجان کا شکار ہو جائے گا کیونکہ اب وہ دو خواہشات کا اسیر ہے؛ ایک سیکس اور دوسری عادت۔ اور دونوں کے پورا نہ ہونے کی بے چینی بڑھ جائے گی۔

پھر یہ کہ اگر باہمی تبادلہ خیال سے یہ طے پا گیا کہ ہر روز تعلق قائم کرنا ہے تو کوئی حرج نہیں، کر لیں کہ نو مولود (new born) کا پیٹ بھرنے کے لیے وقت کا تعین ممکن نہیں ہوتا اور وہ وقت کے ساتھ اپنی بھوک کی جبلت کو کنٹرول کرنا اور ایک خاص وقت میں پورا کرنا سیکھتا ہے۔ لیکن تعلق قائم کرنے کے بعد تو دوسری طرف منہ کر کے نہ سو جایا کریں ناں کہ پیٹ بھر گیا ہے تو بس پیٹ بھرنا ہی مقصد عظیم تھا نہ کہ میاں بیوی کے مابین محبت کے تعلق کو استوار رکھنا اور نفرت کی دیواریں توڑنا۔ تو اب چپک کر سونے میں کیا رکاوٹ ہے! تو اب واضح ہو گیا کہ اگر میاں بیوی آپس میں بغض محسوس کریں تو اسے دور کرنے کے لیے کیسے اس تدبیر پر عمل کر سکتے ہیں۔