خاندان کے ادارے کو دو باتوں سے مضبوط کیا جا سکتا ہے؛ ایک یہ کہ میاں بیوی کو اپنے حقوق اور فرائض (rights and responsibilities) کا شعور حاصل ہو۔ اور دوسرا یہ کہ ان میں تقوی اور اللہ کا ڈر موجود ہو۔ جب تک ایک دوسرے کے حقوق اور فرائض کا علم نہیں ہو گا تو ان کی ادائیگی میں کوتاہی ہوتی رہے گی لہذا اختلاف نہ صرف پیدا ہوں گے بلکہ بڑھتے چلے جائیں گے۔ اور اگر ایک دوسرے کے حقوق وفرائض کا تو علم ہے لیکن اللہ کا ڈر اور خوف موجود نہیں ہے تو ایسی صورت میں ہر ایک فریق کے لیے اپنے فرائض کی ادائیگی ممکن نہیں ہو گی کہ اس کے پاس وہ جذبہ محرکہ (driving force) ہی نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر وہ دوسرے کے حقوق ادا کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں سورۃ البقرۃ میں جہاں تفصیل سے خاندان کے جڑنے اور ٹوٹنے یعنی نکاح اور طلاق کے مسائل کو بیان کیا گیا ہے، وہاں بار بار تقوی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ تقوی کے بغیر نہ تو خاندان قائم کرتے وقت انصاف کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے ٹوٹتے وقت عدل قائم کیا جا سکتا ہے۔ شوہر کے جملہ حقوق کو اگر ایک لفظ میں بیان کریں تو وہ یہ ہے کہ بیوی اپنے شوہر کی اطاعت کرے۔ اور اطاعت کا معنی صرف ان باتوں میں اطاعت نہیں کہ جو بیوی کو پسند ہوں بلکہ ان میں اطاعت کہ جو بیوی کو ناپسند ہوں۔ اور بیوی کے حقوق کو اگر ایک لفظ میں جمع کرنا چاہیں تو وہ یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے حسن سلوک کرے۔ اور حسن سلوک کا معنی صرف بیوی کا کرنا نہیں ہے بلکہ اچھے طریقے اور سلیقے سے کرنا ہے۔

ہمارے ہاں بعض مفتی صاحبان معاشرتی نتائج پر غور کیے بغیر کچھ ایسے فتاوی جاری کر دیتے ہیں کہ جو خاندان کے ادارے کو کمزور کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔ ہمیں یہ واضح رہنا چاہیے کہ فتوی، کتاب وسنت نہیں ہوتا اگرچہ وہ کتاب وسنت کا فہم ہوتا ہے۔ چونکہ سمجھنے میں غلطی لگ سکتی ہے لہذا فتوی میں غلطی کا امکان ہوتا ہے۔ پس مفتی صاحبان کو اپنے فتاوی پر کی جانے والی تنقید کی روشنی میں اپنی آراء پر نظر ثانی کرتے رہنا چاہیے۔مثال کے طور بعض مفتی صاحبان نے کہا کہ بیوی کی یہ شرعی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ خاوند کے لیے کھانا بنائے، کپڑے دھوئے، برتن صاف کرے وغیرہ بلکہ یہ عورت کا احسان ہے۔ اب کہنے کو تو مفتی صاحب عورتوں کے حقوق بیان کر رہے ہیں لیکن اگر کوئی مفتی صاحب سے یہ سوال کرے کہ کیا یہ کوئی شرعی یا فقہی ذمہ داری ہے کہ مرد اپنی بیوی کو سپلٹ اے سی (Split AC) لگوا کر دے، ڈبل بیڈ اور صوفہ سیٹ خرید کر دے، گیزر اور ہیٹر کی سہولت مہیا کرے، بجلی اور گیس کا کنکشن لگوا کر دے لیکن اس کے باوجود اگر مرد ایسا کر رہے ہیں اور مفتی صاحب کوئی ایسا فتوی دیتے ہیں کہ جس میں مردوں کو یہ بتلایا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ ان پر واجب نہیں ہے تو فریق مخالف کی چیخیں نہیں نکلیں گی تو کیا ہو گا! اور یہی کام ہمارے ممدوح مفتی صاحب کر رہے ہیں کہ عورتوں کے حقوق بیان کر کے مردوں کی چیخیں نکلوانا چاہتے ہیں۔

جب آپ نے عورت کی عرفی اور رواجی ذمہ داریاں ساری معاف کر دی ہیں اور ساتھ میں عرفی اور رواجی حقوق اسے سارے دے دیے ہیں تو اب دیندار نوجوان بھی شادی کے معاملے میں دین کو ترجیح نہیں دیں گے بلکہ اس بات کو ترجیح دیں گے کہ کوئی ایسی بیوی لے کر آئیں جو کم از کم گھر کا کام کاج تو کرے۔اگر آپ شریعت اور فقہ ہی سے مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں تو عورت کو جس طرح شریعت اور فقہ کی روشنی میں ذمہ داریوں سے آزاد کیا ہے، اسی طرح شریعت اور فقہ کی روشنی میں ان کے حقوق بھی بیان کریں، تو توازن پیدا ہو گا۔ یہ تو ممکن نہیں ہے کہ جب عورت کے کام کرنے کی باری آئے تو پھر اس کی دینی ذمہ داری اور جب اس کے لینے کی باری آئے تو اب عرف اور رواج کیا ہے؟ اس طرح تو کام نہیں چلے گا۔ آپ ذرا اپنی فقہ سے معلوم کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ فقہاء یہ کہتے ہیں کہ اگر بیوی بیمار ہو جائے تو شوہر پر لازم نہیں ہے کہ اس پر خرچ کرے۔ اور بیوی کی بیماری کا خرچہ اس کا والد اٹھائے گا تو یہ فتوی بھی ذرا دے کر دیکھیں۔ تو ہمیں اس فتوے سے بھی اتفاق نہیں ہے لیکن ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر فقہ بتلانی ہے تو پھر پوری بتلائیں تا کہ توازن پیدا ہو کیونکہ فقہاء نے اپنے عرف کے مطابق ان فتووں میں توازن پیدا کیا تھا۔ اب ان تمام فتووں کو ریوائز کر کے ایک نئے عرف کے مطابق ان میں توازن پیدا کر کے جاری کرنے کی ضرورت ہے۔

اور حقیقی بات یہی ہے کہ میاں بیوی کے حقوق وفرائض کا تعین عرف اور رواج سے ہی ہوتا ہے جیسا کہ سورۃ البقرۃ میں ہے کہ جیسے بیویوں کے حقوق ہیں، ویسے ہی ان کے فرائض بھی ہے، عرف کے مطابق۔ ہم یہ نہیں کہنا چاہتے کہ بیوی گھر میں لانے کا مطلب خادمہ اور نوکرانی لانا ہے، یہ تصور بھی بالکل غلط ہے۔ لیکن یہ کون سا دین ہے کہ بیوی کہے کہ میں اپنے خاوند کو کھانا اس لیے بنا کر نہیں دے سکتی کہ یہ میری دینی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ دین، دین فطرت ہے۔ فتوی کے نام پر اتنی بڑی غلطی نہ کریں کہ فطرت چیخ چیخ کر بتلائے کہ آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ اگر اسی طرح مذہبی عورتوں کے حقوق کے لیے بے معنی فتاوی جاری ہوتے رہے تو وہ وقت بھی قریب آ جائے گا جبکہ شوہر بستر پر پڑا ہو گا اور بیوی اپنی ساس سے کہے گی کہ ذرا اپنے بیٹے کو دوائی پلا دینا، اسے دوائی پلانا میری دینی ذمہ داری نہیں ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ خاندان صرف فقہی اور قانونی ضابطوں سے نہیں چلتے بلکہ ایثار اور قربانی کے جذبوں سے پروان چڑھتے ہیں۔