ایک اور اہم سوال جو سامنے آتا ہے، وہ عورت کا شادی کی پہلی رات سیکس کے عمل سے گھبرانا ہے اور مرد کا اس معاملے میں اس سے زبردستی کرنا ہے۔ مرد کی اس بے وقوفی کی بعض اوقات وجہ تو جہالت ہوتی ہے کہ اس کے خیال میں عورت میں سیکس کی خواہش ستر فی صد اور مرد میں تیس فی صد ہوتی ہے جیسا کہ اتائی حکیموں نے یہ تصور عام کر رکھا ہے۔ مرد کا خیال ہوتا ہے کہ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ پہل کر کے ایک مرتبہ یہ کام شروع کر دے تو عورت اس کے ساتھ شریک ہو جائے گی۔ لیکن عورت اس پر رونا یا بعض اوقات چیخنا چلانا بھی شروع کر دیتی ہے کیونکہ یہ عمل اس کے لیے اذیت ناک بن جاتا ہے۔تو اکثر و بیشتر عورتیں شادی کی پہلی رات سیکس سے گھبراتی ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں یہ خوف لاحق ہوتا ہے کہ یہ عمل تکلیف کا باعث
(painful) ہو گا۔ انہوں نے یہی سنا ہے کہ پردہ بکارت (hymen) پھٹے گا تو خون بھی نکلے گا اور خون دیکھ کر تو درد نہ بھی ہو تو بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اکثر و بیشتر عورتوں کے مسائل میں تو یہ محض ایک نفسیاتی خوف ہوتا ہے کہ جسے مرد اپنے حسن عمل سے دور کر سکتا ہے کیونکہ پردہ بکارت کے پھٹنے کی تکلیف ایسی ہی ہوتی ہے جیسا کہ ٹیکے (injection) کی۔ بعض اوقات تو اتنی بھی درد نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خون نکلتا ہے جبکہ پردہ بکارت پھٹ جائے اور بعض اوقات نہیں نکلتا کہ وہ پہلے ہی سے پھٹا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پردہ بکارت بہت نازک ہوتا ہے اور جمناسٹک، گھڑ سواری اور دیگر کھیلوں سے پھٹ جاتا ہے۔ تو عورت اپنے خوف کی وجہ سے اس عمل سے بھاگتی ہے کہ یہ تکلیف دہ عمل ہے اور دوسرا نفسیاتی خوف یہ ہوتا ہے کہ پردہ بکارت پھٹنا چاہیے تا کہ خاوند کو یقین ہو کہ وہ کنواری ہی ہے اور اس وجہ سے وہ بھی ایک قسم کی اینگزائٹی میں ہوتی ہیں۔ البتہ بعض اوقات عورت کا درد کا مسئلہ واقعی میں جسمانی ہو سکتا ہے جیسا کہ بعض عورتوں کا مباشرت کا رستہ (vaginal track) تنگ ہوتا ہے لہذا مباشرت آپریٹ کیے بغیر ممکن نہیں ہوتی لیکن ایسا کم ہوتا ہے۔ اور اگر ایسا ہے تو اسے آپریٹ کروائے بغیر مباشرت نہ کریں۔

دوسرا شادی کی پہلی رات مرد میں پرفارمنس اینگزائٹی (performance anxiety) زیادہ ہوتی ہے یعنی مرد کو یہ بے چینی لاحق ہوتی ہے کہ اس کا سیکس کامیاب ہونا چاہیے۔ شادی کی پہلی رات ہی اس کی بیوی کو یہ ثابت ہونا چاہیے کہ وہ واقعی میں مرد ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کا مباشرت کے عمل کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ ہو۔ لیکن اس اینگزائٹی میں اسے سرعت انزال (premature ejaculation) ہو جاتا ہے اور اگلے دن وہ حکیموں کے پاس دوڑ رہا ہوتا ہے۔ تو سیکس جب ذہن پر سوار ہوتا ہے تو پھر اس میں خلل (disorder) آ جاتا ہے۔ تو مرد کا اصلاً کوئی جنسی مسئلہ ہوتا نہیں ہے لیکن وہ عجلت میں بنا لیتا ہے۔ دوسرا یہ بھی ذہن میں رہے کہ شادی کی پہلی رات اس شخص کو سرعت انزال ہونے کا زیادہ اندیشہ ہوتا ہے کہ جس نے پہلے کبھی عورت دیکھی نہ ہو لہذا بیوی کو اس پر پریشان نہیں ہو جانا چاہیے کہ اس کا شوہر نا مرد ہے۔ مرد اور عورت کی فزیالوجی، بائیالوجی، کیمسٹری اور سائیکالوجی سب فرق ہوتی ہے لہذا ان دونوں کے لیے ایک دوسرے کے مسائل سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔ تو پانی اگر بہت دیر سے رکا ہوا ہو گا تو یک دم کھولنے سے بے ترتیبی سے باہر نکلے گا۔ البتہ وقت کے ساتھ اس کے تسلسل میں روانی اور ٹھہراؤ آ جاتا ہے۔ تو اکثر و بیشتر شادی کی پہلی رات کو سرعت انزال کا ہو جانا بیماری نہیں ہے۔ لیکن اگر بعد میں بھی ہوتا رہے تو یہ بیماری ہے البتہ ذہنی بیماری زیادہ ہے اور جسمانی بہت کم ہے۔

مرد کو بھی چاہیے کہ جب تک ذہنی مناسبت پیدا نہ ہو تو بیوی سے سیکس نہ کرے ورنہ اس کا خوف بڑھ جائے گا اور ساری زندگی کا نفسیاتی مسئلہ بن جائے گا جو کہ اصلاً ہے نہیں۔ تو شروع میں دو چار دن شوہر اگر اپنی بیوی سے بات چیت وغیرہ کے ذریعے ذہنی مناسبت پیدا کر لے تو بیوی کا خوف دور ہو جائے گا۔ لیکن عموماً ہوتا یہ ہے کہ ایک تو مرد میں عورت کی نسبت سیکس کی خواہش زیادہ ہوتی ہے لہذا وہ پہلی رات سیکس کی طرف بہت مائل ہوتا ہے اور عورت کے نہ چاہتے ہوئے بھی اس سے زبردستی کر جاتا ہے کہ جس سے اس کا خوف بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ ساری زندگی کے لیے اس عمل سے بھاگنا شروع کر دیتی ہے۔