پروفیسر ارشد جاوید ماہر نفسیات (clinical psychologist) ہیں۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی، امریکہ سے سائیکالوجی میں ماسٹرز کیا ہے اور وہاں ہی سے ہپناٹزم میں سپیشلائزیشن ہے۔ وہ ”امریکن سوسائٹی آف کلینیکل ہپناسس“ کے ممبر بھی ہیں۔ کئی ایک کتابوں کے مصنف ہیں اور خاص طور سیکس ایجوکیشن ان کا موضوع ہے۔ دینی اور مذہبی ذہن کے آدمی ہیں، پابند شرع ہیں اور غالباً جماعت اسلامی کی فکر سے تعلق ہے۔ آج کل شادماں، لاہور میں کلینک کرتے ہیں۔

جنس ہماری زندگی کی ایک بہت بڑی حقیقت ہے لیکن اس سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ مشرق میں اس پر بات کرنا بھی شجر ممنوعہ (taboo) کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ظاہری بات ہے کہ اس کی وجوہات ہیں کہ جنہوں نے سیکس کو موضوع بحث بنایا ہے یعنی اہل مغرب، تو اس بھونڈے انداز میں کہ ایک شریف انسان کو اسے پڑھ سن کر ہی ابکائی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے میں وقت کی ایک اہم ضرورت ہے کہ مہذب اور سلجھے ہوئے انداز میں نوجوانوں کے جنسی مسائل میں ان کی رہنمائی کی جائی کہ جس کا مقصد ایجوکیشن ہو نہ کہ زنا اور فحاشی کا فروغ۔

پروفیسر ارشد جاوید صاحب نے اس موضوع پر تین کتابیں لکھی ہیں، ایک کنواروں کے لیے، دوسری شادی شدہ مردوں کے لیے اور تیسری شادی شدہ عورتوں کے لیے۔ مجھے ان کی بعض باتوں سے اتفاق نہیں ہے جیسا کہ مشت زنی (masturbation) کے بارے ان کی رائے ہے کہ اس میں کوئی ایشو نہیں بلکہ انسانی صحت کے لیے مفید ہے۔ مجھے اس نکتہ نظر سے اتفاق نہیں ہے اور اس اتفاق نہ ہونے کی وجہ محض مذہبی نہیں بلکہ نفسیاتی ، سماجی اور طبی وجوہات بھی ہیں جن کا آگے چل کر ذکر کروں گا۔ میرا سیکس کے بارے میں ایک بالکل سوچا سمجھا نکتہ نظر ہے جو ایک کل (whole) کا جز ہے۔ اور وہ کل یہ ہے کہ سیکس کا مقصود اول نفس کی راحت نہیں بلکہ اولاد کا حصول اور نسل انسانی کا فروغ ہے۔ البتہ نفس کی راحت بھی اس کے بڑے مقاصد میں سے ایک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں واضح اشارات موجود ہیں کہ جن میں مادہ منویہ (sperm) کے ضائع کرنے کو پسند نہیں کیا گیا جیسا کہ ”غَيْرَ مُسَافِحِينَ“ کی تعبیر ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ پروفیسر صاحب نے میڈیکل سائنس ، ماڈرن سائیکالوجی اور کسی قدر مذہبی علم کی روشنی میں یہ کاوش اخلاص سے کی ہے۔ اور مارکیٹ اور انٹرنیٹ پر سیکس ایجوکیشن کے حوالے سے جو مواد موجود ہے، اس سے ان کی یہ کتابیں کئی گنا بہتر ہیں۔

بعض نوجوان مجھ سے بھی جنس سے متعلق مسائل پوچھتے ہیں اور مجھے معلوم ہے کہ میں اس موضوع پر اچھا لکھ سکتا ہوں کہ جنس کا بہت سا تعلق نفسیات اور لسانیات سے ہے اور ان دونوں مضامین میں مجھے طبعی دلچسپی ہے۔ لیکن پھر ایک حجاب طاری ہو جاتا ہے کہ موضوع ہی ایسا ہے کہ لکھتے وقت ہچکچاہٹ ہوتی ہے۔ آپ اسے جتنا مرضی سلجھے ہوئے انداز میں بیان کر دیں، ہے تو سیکس کا موضوع ہی۔ اور یہ لفظ ہی ایسا ہے کہ ہمارے معاشروں میں اسے زبان پر لانا بھی گناہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ یہی موضوع پڑھا اور دیکھا جاتا ہے۔

ایسے میں فی الحال ارشد جاوید صاحب کی کتب ان نوجوانوں اور دوستوں کی خدمت میں پیش کر سکتا ہوں کہ جو اپنے جنسی مسائل سے پریشان ہیں۔ یہ کتابیں آپ گوگل کر کے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ بس اس رہنمائی کے ساتھ ان کتابوں کو پڑھیں کہ اس موضوع پر مذہبی آدمی کے لیے جو کچھ دستیاب ہے، اس میں سے بہترین ہیں۔ اور ان کتابوں کو پڑھنے کے بعد نہ ہی سیکس کو ذہن پر سوار ہونے دیں کہ اگر یہ ذہن پر سوار ہو گیا تو پھر آپ اپنی شخصیت کی تباہی کے رستے پر ہیں۔ سیکس انسان کی بائیولوجیکل ضرورت ہے، اس میں شک نہیں ہے لیکن پیٹ کی بھوک تو آپ مٹا سکتے ہیں، آنکھوں کی نہیں۔ تو اسے بائیولوجیکل ضرورت ہی رہنے دیں، ذہنی ہوس نہ بننے دیں۔ اور زیادہ مذہبی لوگ ان کتابوں کا مطالعہ نہ ہی کریں تو اچھا ہے۔ پھر شکوہ کریں گے کہ حافظ صاحب پڑھنے کے لیے کیا تجویز کر دیا۔

پروفیسر ارشد جاوید صاحب سے دو تین ملاقاتیں ہیں۔ کافی سمجھدار انسان ہیں لہذا جو لوگ جنسی مسائل میں مجھ سے رجوع کرتے ہیں تو جو جواب مجھ سے بن پڑتا ہے تو میں انہیں بتلا دیتا ہوں۔ لیکن اگر کسی کے مسائل اتنے زیادہ ہوں کہ اسے باقاعدہ کاؤنسلنگ یا تھیراپی کی ضرورت ہو تو ایسے لوگوں کو پروفیسر ارشد جاوید صاحب کی طرف ریفر کر دیتا ہوں۔ تو آپ کو بھی اگر ضرورت محسوس ہو تو ان سے وقت لے سکتے ہیں۔ وہ شادمان، لاہور میں فاطمہ میموریل ہسپتال کے سامنے بائیو ٹیسٹ کلینک میں بیٹھتے ہیں۔ ان کے فیس بک پیج کا ایڈریس ذیل میں شیئر کر رہا ہوں کہ جس میں ان کے کلینک کے ایڈریس اور فون وغیرہ کی تفصیلات موجود ہیں۔