غیر شادی شدہ طلبہ اکثر اس بات کا تذکرہ کرتے ہیں کہ جب وہ اپنے دوستوں یا سہیلیوں یا رشتہ داروں میں سے کسی شادی شدہ کی لائف کو دیکھتے ہیں تو وہ شادی کے بارے اتنے منفی ہو جاتے ہیں کہ انہیں لگتا ہے کہ شادی شاید مسائل کا انبار ہی ہے لہذا اس سے دور ہی رہو۔ تو ایسے غیر شادی شدہ طلبہ کی رہنمائی کے لیے کچھ باتیں پیش خدمت ہیں کہ جن کے مطالعہ سے شادی شدہ زندگی کے بارے ان کی منفیت ختم نہ سہی لیکن کم ضرور ہو جائے گی؛-

پہلی بات تو یہ ہے کہ ایک غیر شادی شدہ کے لیے ایک شادی شدہ کے مسائل کو سمجھنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ اس لیے غیر شادی شدہ بھلے ارسطو ہی کیوں نہ ہو، اسے کسی شادی شدہ کی کسی صورت کاؤنسلنگ نہیں کرنی چاہیے الا یہ کہ کوئی عمومی بات کر دے جیسے قرآن مجید کی آیت سنا دی یا حدیث بتلا دی تو اس میں حرج نہیں ہے۔ اصولی بات یہی ہے کہ “ليس الخبر كالمعاينة” یعنی خبر سے حاصل شدہ علم اور مشاہدے اور تجربہ کا علم برابر نہیں ہوتا ہے، دونوں میں فرق ہوتا ہے۔ کچھ چیزیں خبر سے منتقل نہیں ہو پاتی ہیں بلکہ ذاتی تجربہ سے ہی منتقل ہوتی ہیں جنہیں ہم احوال اور کیفیات کہتے ہیں۔ تو شادی شدہ کے احوال اور کیفیات، غیر شادی شدہ کو منتقل نہیں ہو سکتی ہیں۔ تو شادی سے پہلے اتنے مہان نہ بنیں کہ شادی شدہ کی کاؤنسلنگ شروع کر دیں کہ انہیں مشورے دینا شروع کر دیں کہ اپنے پارٹنر کے ساتھ زندگی کیسے گزارنی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ازدواجی زندگی کے مسائل حل کرنے میں کئی ایک پہلو اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، ان میں سے ایک مرد اور عورت کی شخصیت کا مطالعہ ہے۔ دونوں کی نوع (gender) چونکہ فرق ہے لہذا میاں بیوی کو عموماً اس بات کا احساس نہیں ہو پاتا کہ مرد اور عورت دونوں کا مزاج اور سوچنے کا انداز تک فرق ہے۔ وہ ایک ہی بات کو مختلف طرح سے لیتے ہیں؛ ایک بات ایک کے نزدیک اہم ہے تو دوسرے کے نزدیک فضول ہے۔ تو مرد کے لیے ضروری ہے کہ عورتوں کی نفسیات کو جانتا ہو یعنی ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر نظر رکھتا ہو۔ اور عورت کے لیے ضروری ہے کہ مردوں کی دنیا سے واقف ہو یعنی ان کی نفسیات سے آگاہی رکھتی ہو۔ تو دونوں جب تک ایک دوسرے کی شخصیت سے واقف نہیں ہوں گے تو مسائل اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔ دونو ں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ مردوں کی اپنی دنیا ہے اور عورتوں کی اپنی دنیا ہے۔ دونوں ازدواجی زندگی کے بعد ایک دوسرے کی دنیا دیکھنے کا آغاز کرتے ہیں لیکن اس کو سمجھنے میں انہیں کبھی ایک دو سال اور کبھی آٹھ دس سال بھی لگ جاتے ہیں ۔ اور یہ سمجھ اس لیے جلد مکمل نہیں ہو پاتی ہے کہ دونوں کا رشتہ مسابقت اور مقابلے کا ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر حالت حیض میں عورت کی تلون مزاجی (mood swings) کو سمجھنا مرد کے لیے ممکن نہیں ہے کیونکہ اسے کبھی اس کا تجربہ ہی نہیں ہوا ہے۔ عورت صرف اسے بتا سکتی ہے لیکن اسے اپنی تکلیف اور حالت ریئلائز نہیں کروا سکتی ہے۔ البتہ مذہبی مرد کو کچھ اندازہ ہو سکتا ہے کیونکہ جب وہ قرآن مجید میں یہ پڑھتا ہے کہ حیض عورتوں کے لیے ایک تکلیف دہ مرحلہ ہے تو وہ اس قدر ضرور سمجھ لیتا ہے کہ اگر اللہ عزوجل نے اپنی کتاب میں اس تکلیف کا ذکر کیا ہے تو مجھے اسے کنسڈر کرنا ہے کہ ایک اہم معاملہ ہے۔ اسی طرح مرد کی جنسی احساس محرومی (sexual frustration) میں کیا کیفیت ہوتی ہے، یہ بیوی کے لیے سمجھنا مشکل ہے۔ البتہ مذہبی عورت کو کچھ اندازہ ہو سکتا ہے کیونکہ جب وہ حدیث کا مطالعہ کرتی ہے تو اسے نظر آتا ہے کہ حدیث میں یہ ہے کہ جب کوئی بیوی اپنے شوہر کے بستر پر آنے سے ناں کر دے تو اس پر ساری رات فرشتے لعنت بھیجتے ہیں۔ اس سے اس کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ مسئلہ حساس ہے اور اسے شوہر کے اس مسئلے کو کنسڈر کرنا ہو گا کیونکہ اس کے دین نے اسے سنجیدہ لیا ہے۔

تو دوسری بات سے تیسری بات یہ نکلی کہ ازدواجی زندگی کی سوجھ بوجھ اور بصیرت میں اضافہ کرنے کی خواہش ہو تو اس کا بہترین ذریعہ دین کا گہرا مطالعہ اور اچھی معاشرت ہے مثلاً شوہر اپنے شادی شدہ دوستوں اور عورت اپنی شادی شدہ سہیلیوں سے سیکھ سکتی ہے بشرطیکہ وہ سمجھ دار اور تجربہ کار ہوں اور دینی علم بھی رکھتے ہوں تو کیا کہنے!پس معاشرت کو بہتر کیا جائے یعنی انفرادیت (individualism) سے نکلا جائے اور اچھی فیملیز جو کہ آپ کے رشتہ داروں میں ہوں یا پڑوسیوں میں یا دوستوں میں، ان کی طرف آنا جانا رہے تو دوسرے جوڑوں (pairs) کے رویوں سے سیکھنے کا موقع ملے گا اور سمجھ جلد مکمل ہو گی کہ ان لوگوں سے آپ کا رشتہ مخاصمت کا نہیں ہے۔ اور جہاں مقابلے کا رشتہ نہ ہو تو وہ وہاں سے انسان جلد سیکھ جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اپنی بیوی کے حق میں کوتاہی کر رہے ہوں لیکن یہ بات آپ کو اس وقت زیادہ بہتر سمجھ آتی ہے جب آپ اپنے دوست کا رویہ اس کی بیوی کے حق میں اس سے مختلف دیکھتے ہیں کہ جو آپ کا ہے۔ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ایک بیوی اپنے شوہر کے حق میں کوتاہی کر رہی ہو لیکن اپنی کسی سہیلی کے اس کے شوہر کے حق میں رویے کو دیکھ کر اسے اپنی اصلاح کی فکر پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی بات کو حدیث میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ مومن ،مومن کے لیے آئینہ ہے یعنی ایک مومن دوسرے مومن کے رویوں کو دیکھ کر اپنے رویوں کی اصلاح کر لیتا ہے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ میاں بیوی کے مسائل کبھی ختم نہ ہوں گے کیونکہ میاں بیوی کو اللہ عزوجل نے ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا ہے۔ اس لیے یہ مت سمجھیں کہ یہ مسئلہ حل ہو جائے گا تو گھر میں سکون ہو جائے گا۔ ایسا سکون بھی عارضی ہی ثابت ہو گا کہ کچھ عرصہ بعد پھر لڑائی ہو جائے گی۔ جب لڑائی کی کوئی وجہ ہو گی، تب بھی ہو گی اور بلا وجہ بھی ہو گی۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ یکسانیت سے اکتاہٹ اور بیزاری محسوس کرتا ہے۔ ایک جیسے ماحول سے تنگ آ جاتا ہے۔ پس بعض اوقات تو میاں بیوی کو یہ بھی سمجھ نہیں آتی کہ لڑائی کی وجہ نہیں تو پھر کیوں لڑ رہے ہیں۔ اس کی وجہ انسانی مزاج کی فطری کمزوریاں بھی ہیں۔ تو بس اتنا کافی ہے کہ اگر میاں بیوی کی لڑائی کے بعد صلح کے نتیجے میں ان کا تعلق پہلے سے زیادہ مضبوط ہو رہا ہے تو یہی مطلوب ہے۔ مثال کے طور پر گناہ کے بعد توبہ آپ کو اللہ کے اور نزدیک کر دے تو اب گناہ پر کیا پچھتانا اور افسوس کرنا! تو میاں بیوی میں اگر لڑائی نہ ہو گی تو شاید وہ خود کشی کا سوچیں گے لہذا صحت مند ذہن کے لیے لڑائی ضروری ہے۔ لیکن جس طرح لڑائی نہ ہونا یا مسائل کا نہ ہونا بھی ایک انتہا اور آئیڈیلزم ہے تو بات بات پر لڑائی اور روز روز کی گالم گلوچ اور مار کٹائی تو یہ ایک دوسری انتہا ہے۔ یہ بھی درست نہیں ہے کہ یہ رویہ بھی زندگی کو عذاب بنا دیتا ہے۔

بعض جوڑوں کی کاؤنسلنگ میں یہ معلوم ہوا کہ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ بھی ایک مسئلہ ہے اور بہت بڑا مسئلہ ہے۔ تو شکر کریں کہ آپ کے مسئلے ہیں۔ اگر نہیں ہوں گے تو بھی بے چین رہیں گے کہ کیوں نہیں ہیں اور پھر بنانے کی کوشش کریں گے تا کہ زندگی میں رنگینی باقی رہے۔ مسائل تو زندگی کی رنگینی ہیں۔ جب آپ کا پارٹنر فوت ہو جاتا ہے تو پھر اس کا احساس ہوتا ہے۔ پھر اس کی لڑائیاں بھی یاد آتی ہیں۔ لڑتا تھا تو گھر میں رونق تھی۔ اب نہیں رہا تو کاٹ کھانے والی خاموشی ہے۔ دیکھیں، مائیں بچوں سے کتنا تنگ رہتی ہیں اور واقعی میں تنگ ہوتی ہیں، ان پر چیختی چلاتی ہیں، وہی بچے جب اپنے ننھیال یا ددھیال کچھ دنوں کے لیے چلے جاتے ہیں تو انہیں یاد آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ گھر سُونا سُونا معلوم ہوتا ہے۔ پھر کہتی ہیں کہ کیا ہوا کہ شور کرتے تھے، گھر میں رونق تو تھی ناں۔ تو انسان ایسا ہی ہے۔

پانچویں بات یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے دونوں کے لیے علیحدگی کا راستہ رکھا ہے؛ مرد کے لیے طلاق، عورت کے لیے خلع۔ مرد اگر بیوی سے تنگ ہے اور طلاق نہیں دے رہا تو اسے بیوی سے کچھ مل رہا ہے تو تبھی تو طلاق کا رخ نہیں کر رہا ہے۔ اسی طرح سے اگر عورت تنگ ہے اور وہ خلع نہیں لے رہی تو اس کا مطلب ہے کہ اسے شوہر سے کچھ خیر مل رہا ہے کہ جس کو وہ گنوانا نہیں چاہتی ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ شوہر سے علیحدگی کی صورت میں اس کا نقصان زیادہ ہے، لہذا وہ بڑے نقصان سے بچنا چاہتی ہے اور چھوٹا نقصان برداشت کر رہی ہے یعنی شوہر کے ساتھ رہنا۔ تو یہ بھی ذہن میں رہے کہ جب دونوں اکٹھے رہ رہے ہیں تو کسی نہ کسی درجے میں انہیں ایک دوسرے سے فائدہ پہنچ رہا ہوتا ہے اگرچہ وہ لڑائی میں اس باہمی فائدے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

چھٹی بات یہ ہے کہ اگر آپ کے جاننے والے پچاس لوگ شادی شدہ ہیں اور ان میں سے دس نے آپ سے ازدواجی زندگی کے درہم برہم ہونے کا ذکر کیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ۸۰ فی صد پھر بھی ایسے ہیں کہ جو اپنے معاملات خود سے سنبھال رہے ہیں۔ یعنی مسائل ان کے بھی ہیں لیکن وہ گھر میں ہی حل ہو جاتے ہیں۔ اوربہترین ازدواجی زندگی اسی کا نام ہے کہ آپ کے مسائل آپ کے گھر میں ہی حل ہو جاتے ہوں۔ باقی مسائل کا نہ ہونا تو یہ جنت میں ہی ممکن ہے، دنیا میں نہیں۔ تو اس سے نکل آئیں کہ مسائل ہی نہ ہوں۔ یہ سوچ ہی درست نہیں ہے۔ ایسی سوچ رکھنے والا ہمیشہ پریشان رہے گا۔ اور جب واقعی میں اس کے مسائل نہ رہیں گے تو پھر یہ مسئلہ تو باقی رہے گا کہ مسائل نہیں رہے۔ اور یہ بھی ایک مسئلہ ہی ہے جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں۔

ساتویں بات یہ ہے کہ جن میاں بیوی کے مسائل ہوتے ہیں، وہ آپ سے مسائل تو شیئر کرتے ہیں لیکن اپنی خوشیاں نہیں ۔ وہ اپنے دو چار سالوں میں روزانہ لڑے ہی نہ ہوں گے۔ کبھی خوشی کے دو چار دن بھی انہوں نے گزارے ہی ہوں گے۔ تو وہ آپ سے کبھی شیئر نہیں کریں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی نیچر ہی یہی ہے کہ وہ غم زیادہ شیئر کرتا ہے بنسبت خوشی کے۔ تو ازدواجی زندگی آزمائش اور خوشی دونوں کے مجموعے کا نام ہے۔ صرف آزمائش نہیں ہے بلکہ خوشی بھی ہے۔ اور میاں بیوی لڑائی میں اپنے خوشی کے دنوں کو بھول جاتے ہیں اور صرف غم اور آزمائش کو ہی یاد کرتے ہیں۔ اس طرح وہ علیحدگی اور منفیت کی طرف زیادہ مائل ہو جاتے ہیں۔

آٹھویں بات یہ ہے کہ میاں بیوی کا تعلق ہی ایسا ہے کہ یا تو شوہر زیادتی کرے گا اور اگر وہ نہیں کرے گا تو بیوی کر جائے گی۔ ایک نہیں ناراض ہو گا تو دوسرا ہو جائے گا۔ شوہر نہیں ڈانٹے گا تو بیوی ڈانٹنا شروع ہو جائے گی۔ اور یہ حقیقت ہے۔ تو میاں بیوی کا تعلق مسابقت کا تعلق ہے کہ ان میں سے ہر ایک پہل کرنا چاہتا ہے تا کہ دوسرے پر اپنا اثر ڈال سکے۔ اور اسی طرح میاں بیوی کا تعلق بنیادی طور لین دین کا تعلق بھی ہے۔ آئیڈیل تعلق ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو یک طرفہ ہو جیسا کہ ماں کا اولاد کے ساتھ ہے کہ دینا ہی دینا ہے۔ لینے کی امید بھی نہیں لگائی۔ اور نہ بھی ملا تو بھی واری صدقے اور قربان۔ تو میاں بیوی کا تعلق قانونی ہے لہذا یہ شروع میں قانونی انداز میں ہی چلے گا ۔ گنتی ہوتی رہے گی کہ میں نے یہ دیا اور اس نے وہ لیا، میں نے اتنا کیا اور اس نے اتنا۔ اور شروع میں اس کو ایسے ہی چلا لیں، کوئی حرج نہیں۔ میں یہی کہا کرتا ہوں کہ شروع میں میاں بیوی کا تعلق دھکے کا تعلق ہے۔ بس گاڑی کو دھکا لگا کر اسٹارٹ کروا دیا کریں۔ پھر زندگی کی سڑک پر کچھ سفر اور طے کر لے گی۔ اور یہی رشتہ داروں اور دوستوں کا کام ہے یعنی دھکا لگا دینا۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ باہمی ایثار اور قربانی سے محبت اور الفت پیدا ہو جاتی ہے تو یک طرفہ حسن سلوک بھی چل جاتا ہے۔ اور محسوس بھی نہیں ہوتا کہ صرف میں ہی کر رہا ہوں اور دوسرا کیوں نہیں اتنا کر رہا۔

نویں بات یہ کہ میاں بیوی میں دونوں کی نفسیاتی ساخت کا فرق ہے اور ازدواجی مسائل کے حل کے لیے اس کو سمجھنا اور سمجھانا دونوں کے لیے ضروری ہے۔ مرد ایک بات کو چھوٹا سمجھتا ہے لیکن عورت کے نزدیک وہ بہت بڑی ہوتی ہے کہ اس کا تعلق اس کے جذبات سے ہوتا ہے جبکہ مرد اسی بات کو شعور کی عینک سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ تو شعور کی عینک سے وہ بات چھوٹی ہی ہوتی ہے بلکہ بہت معمولی لیکن عورت کے جذبات کی روشنی میں وہ بہت بڑی ہوتی ہے۔ اب یہ ایک دوسرے کی عینک نہیں لگا سکتے بلکہ ان میں اکثر کو اس کا بھی شعور نہیں ہوتا کہ ہماری عینکیں مختلف ہیں۔ تو یہ شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ اختلافات کم ہو جاتے ہیں۔ اور اگر ہو جائیں تو جلدی حل ہو جاتے ہیں۔ اور میاں بیوی کو وقتاً فوقتاً ایک دوسرے سے یہ پوچھتے رہنا چاہیے کہ آپ کی مجھ ڈیمانڈ کیا ہے۔ اور ڈیمانڈ میں ایک ہی چیز کو رکھیں۔ یہ بھی کریں، وہ بھی کریں، یہ انداز درست نہیں ہے۔ تو شوہر اپنی بیوی کو واضح کر دے کہ بس میری یہ ایک ڈیمانڈ تو ایسی ہے جو آپ کو پوری کرنی ہی ہے۔ اور بیوی بھی اسی طرح اپنے شوہر پر واضح کر دے۔ اور یہ ڈیمانڈز عموماً وہی ہوں گے کہ جن کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے آپ کے پارٹنر کو زیادہ تکلیف لگ رہی ہو گی۔ اور ہو سکتا ہے کہ آپ کے نزدیک وہ غیر اہم ہوں یا اِلاجیکل ہوں۔ لیکن آپ کے پارٹنر کے نزدیک اہم ہیں لہذا آپ کو پوری کرنی ہیں۔

اور پھر شیطان یہاں سب سے زیادہ وسوسے ڈالے گا کہ ایک بار طے ہو جانے کے بعد بھی آپ اپنے پارٹنر کی اس ڈیمانڈ کو پورا کرنے میں ڈنڈی ماریں۔ وہ آپ کو تاویلیں سکھائے گا کیونکہ اس کا تو کام ہی یہی ہے کہ میاں بیوی میں لڑائی رہے۔ جب تک لڑائی رہے گی یہ سکون میں نہیں رہیں گے۔ اور جب سکون میں نہیں رہیں گے تو کون سا دین ایمان باقی بچے گا۔ تو شیطان نے انسان کے دین ایمان کو داؤ پر لگانے کے لیے یہ رستہ چنا ہے۔ اسے بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ میں نے اپنی اہلیہ سے پوچھا کہ آپ کو مجھ سے کیا ڈیمانڈ ہے۔ کما تو میں رہا تھا لہذا گھر کا خرچ چل ہی رہا تھا۔ وہ بھی گھر کے کام کاج کر رہی تھیں۔ لیکن مسائل برابر موجود تھے۔ تو میں نے اپنی ڈیمانڈ بتلا دی کہ مجھے یہ ایشو ہے۔ اس حوالے سے مجھے شکایت نہ ہو۔ انہوں نے اپنی ڈیمانڈ بتلا دی کہ مجھ اس سے زیادہ تنگی ہوتی ہے لہذا آپ اس کا اہتمام کریں۔ مثال کے طور اہلیہ نے کہا کہ مجھے جب گھر سے باہر جانا ہوتا ہے، اپنی امی کی طرف، تو مجھے خود ڈرائیو کر کے جانا پڑتا ہے۔ اور یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ مجھے پِک اینڈ ڈراپ (pick & drop) دیں۔ تو میں نے کہا کہ ٹھیک ہے کہ میں اس کا اہتمام کروں گا۔

اب اتوار کے دن انہیں اپنی امی کی طرف جانا ہوتا تھا۔ میرا اتوار یونیورسٹی سے اگرچہ آف تھا لیکن اس کے علاوہ کچھ ایکٹوٹیز تھیں۔ صبح سات سے نو بجے کسی انسٹی ٹیوٹ میں ایک شارٹ درس نظامی کی کلاس ہوتی تھی کہ جس میں یونیورسٹی گریجویٹس کو عالم بنایا جاتا ہے۔ اس کے بعد گھر آیا اور ناشتا کیا۔ اور پھر درس قرآن مجید کے لیے نکل گیا۔ محلے میں ایک شادی ہال میں پچھلے تین چار سالوں سے ہمارا درس قرآن مجید چل رہا ہے کہ جس میں ہر اتوار کو ایک گھنٹے میں کوئی دو رکوع ترجمے سے پڑھ لیتے ہیں۔ یہ دس سے گیارہ بجے کے درمیان ہوتا تھا۔ اس کے بعد وہاں ہی سے مدرسہ چلے گئے جہاں مدرسہ کی آخری کلاسز کے لیے فکر اسلامی کا ایک کورس شروع کیا ہوا تھا اور یہ کلاس گیارہ سے ایک بجے ہوتی تھی۔ اور ان تینوں ایکٹوٹیز کے لیے اچھا خاصا سفر کرنا پڑتا تھا۔ گھر ظہر کے وقت واپس آئے اور اب تھکاوٹ سے برا حال ہے۔ گھر میں گاڑی کھڑی ہے۔ بیگم صاحبہ عرصے سے گاڑی چلا رہی ہیں۔ اور مجھے معلوم ہے کہ اگر میں نے ذرا بھی اتنا جملہ بول دیا کہ آج تھکاوٹ زیادہ ہو گئی ہے تو انہوں نے خود ہی چلے جانا ہے۔ تو ایسے میں اپنے آپ کو ہشاش بشاش بھی رکھنا ہے اور شیطان کے وسوسوں کو بھی پیچھے دھکیلنا ہے۔ شیطان کا کہنا ہے کہ ابھی تو مدرسہ سے آئے ہو اور وہاں ہی ساتھ ان کی امی کا گھر بھی ہے۔ یہ کوئی ہمارے گھر سے دس کلومیٹر ایک طرف کا فاصلہ ہے۔ دونوں طرف کا بیس کلومیٹر بن جاتا ہے۔ اب ایک مرتبہ انہیں چھوڑنے جاؤ گے۔ اور پھر لینے جاؤگے۔ تو وقت کا بھی ضیاع ہے اور پیسے کا بھی۔ لیکن نہیں مجھے اس وسوسے کو پیچھے کرنا ہے کہ میرے پارٹنر کے نزدیک یہ چیز اہم ہے تو میرے لیے بھی یہ اہم ہے۔ اور مجھے اسے اہمیت دینی پڑے گی، چاہے مجھے یہ کتنی غیر اہم معلوم ہو کیونکہ اس کے نزدیک یہ اہم ہے۔ یہ سوچ تو میرے اینڈ سے ہے۔ اب میں اپنے پارٹنر کے اینڈ سے سوچوں تو میرا صبح سات سے ظہر تک کلاسز اور دینی ایکٹوٹیز میں مصروف رہنا میری اہلیہ کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ میں نے اپنا اتوار کا دن جو مجھے اسے دینا چاہیے تھا، اپنی ایکٹوٹیز میں لگا دیا کہ جس کا اسے کوئی مادی فائدہ نہیں ہے۔ تو یہ اس کا مجھ پر احسان ہوا کہ مجھ سے اپنے وقت کے حق کو معاف کر دیا۔

تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے پاس مثبت سوچنے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے، بس ایک دوسرے زاویے اور اینگل سے سوچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ سوچنے کے لیے حوصلہ چاہیے جو عموماً میاں بیوی سے ہوتا نہیں ہے کیونکہ وہ ڈر کی نفسیات کا شکار ہوتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر ہم اپنے پارٹنر کے بارے مثبت سوچیں گے تو ہم جھوٹے پڑ جائیں گے اور وہ درست ثابت ہو جائے گا۔ تو ایسی صورت حال میں ہم اپنے پارٹنر سے اپنے حق کا مطالبہ پورے یقین سے نہیں کر پائیں گے۔ یہ تو سوچ کا ایک رخ ہے جبکہ دوسرا رخ یہ ہے کہ آپ اپنے حق کا مطالبہ تو یقین سے کر لیں گے لیکن اس کے حق میں کوتاہی ضرور کر جائیں گے۔ اور اس سے وہ تنگ ہو گا۔ اور جب وہ تنگ ہو گا تو وہ آپ کو بھی تنگ کرے گا۔ تو آپ کا نفس اہم ہے اور بہت اہم ہے۔ لیکن جب تک آپ دوسرے کے نفس کو اہمیت نہ دیں گے تو وہ بھی آپ کے نفس کو اہمیت نہ دے گا۔ تو یا تو آپ اپنی تمام ضرورتیں، سیکس کی ہوں یا رومانس کی، اپنے نفس سے ہی پوری کر لیں، جو کہ ناممکن ہے۔ تو جب یہ ممکن نہیں ہے اور آپ کی بعض ضرورتیں ایسی ہیں جو دوسرے سے ہی پوری ہونی ہیں تو پھر آپ کو اپنے نفس کی راحت کے لیے دوسرے کے نفس کو اہمیت دینی پڑے گی اور اسے بھی راحت پہنچانی ہو گی تا کہ آپ کو اس کے نفس سے وہ راحت مل سکے جو آپ کے لیے تسکین کا باعث ہے۔

دسویں بات یہ ہے کہ پختگی اور میچورٹی بھی ایک خاص عمر میں دونوں میں آتی ہے اگرچہ عورت میں عموما ً جلد آ جاتی ہے، ماں بننے کی وجہ سے، اور اس لیے بھی کہ لڑکی لڑکے سے پہلے بالغ ہو جاتی ہے۔ اور مرد نے اگر خود انحصاری کی زندگی (independent life) نہ گزاری ہو تو میچورٹی دیر سے آتی ہے۔ اس لیے ایک مرد اگر بیس سے پچیس سال کا بھی ہے اور بیوی کو ماں باپ کے ساتھ رکھا ہوا ہے تو اسے علیحدہ گھر لینے کا فیصلہ کرنے میں اس لیے مشکل ہوتی ہے کہ اس نے کبھی اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے فیصلے نہیں کیے تو اب اپنی بیوی کی زندگی کے فیصلے کرنے کی بھی اس میں ہمت اور جرات نہیں ہے۔ یعنی اس نے یہ ابھی تک سیکھا نہیں ہے۔ اس نے ابھی یہ سیکھنا ہے۔ تو یہ بہت اہم ہے کہ مرد کی شادی سے پہلے اس کی ایسی تربیت ہو کہ وہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اور بچیوں کی شادی میں جو چیزیں دیکھنی چاہییں، ان میں سے ایک یہ بھی اہم ہے کہ مرد میں فیصلہ کرنے کی کتنی صلاحیت ہے۔ گھر کا سربراہ وہی بن سکتا ہے کہ جس میں یہ صلاحیت ہو ۔اور اب یہ ممی ڈیڈی بچے کیا گھر چلائیں گے! اس لیے بیوی کو اپنے سسرال کے ساتھ جو مسائل پیش آتے ہیں، انہیں حل کرنے میں وہی مرد ناکام رہتا ہے کہ جس نے زندگی میں کبھی فیصلے نہ کیے ہوں اور ماں باپ کے سہارے زندگی گزاری ہو۔ لہذا مرد کو سیکھنے میں وقت لگے گا، یہ بیوی کو سمجھنا چاہیے۔ یا بیوی خود اگر شوہر سے زیادہ میچور ہو تو اسے سکھا دے۔ اگرچہ یہ چیز اس کے لیے اذیت ناک ہو گی کہ عورت ہمیشہ ایسے مرد کو پسند کرتی ہے جو اس سے مضبوط ہو۔

گیارہویں بات یہ کہ عموما ًیہ شکایت بھی ہوتی ہے کہ شادی سے پہلے رویہ اور تھا اور بعد میں اور ہے۔ تو یہ تو عموما ً ہوتا ہے کہ شادی کے بعد دونوں طرف سے رویوں میں تبدیلی نظر آتی ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ اس کے لیے ذہناًتیار رہنا چاہیے۔ یہاں مرد اور عورت کی سائیکالوجی میں فرق یہ بھی ہے کہ مرد عموما برے حالات یا وقت کے لیے ذہناً تیار رہتا ہے لیکن عورت نہیں ہوتی۔ یا یوں کہہ لیں کہ وہ زیادہ خوش فہم ہوتی ہے یا زیادہ پر امید (optimistic) ہوتی ہے۔ تو حالات اگر اس کے ذہن کے موافق نہ ہوں تو وہ زیادہ جلدی اور تیزی سے ذہنی بے سکونی کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس میں کچھ کردار ہمارے ماحول کا بھی ہے کہ ماحول میں اس قدر گلیمر اور چکاچوند ہے کہ یہ چیز عورتوں کے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے کہ زندگی تو نام ہی آسائش اور آرام کا ہے جبکہ مرد کا بیانیہ ان کے مقابلے میں زندگی کو ایک چیلنج اور آزمائش کے طور لینے کا ہوتا ہے۔ تو جب گھر ٹوٹتا ہے تو یہ نہیں کہ عورت کا نقصان ہوتا ہے، مرد کا بھی اتنا ہی نقصان ہوتا ہے اور وہ بھی اتنی ہی تکلیف میں ہوتا ہے جتنی کہ عورت۔ لیکن وہ آزمائش کا سامنا کر جاتا ہے اور بہت کم ڈھیر ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہی نفسیاتی فرق ہے۔ اس نفسیاتی فرق کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مرد کی جسمانی ساخت ایسی ہے یا اس کے کام یا ذمہ داری کی نوعیت ایسی ہے کہ وہ زندگی کو چیلنج اور آزمائش کے طور لے۔

بارہویں بات یہ کہ فرق صرف مرد اور عورت کی نفسیات کا نہیں ہے بلکہ عورت، عورت کی نفسیات میں فرق ہوتا ہے۔ مثلاً اگر میں یہ بات کہوں کہ یہاں فیس بک پر خواتین رائٹرز میں فلاں اور فلاں ایک نوع کی خواتین ہیں اور فلاں اور فلاں دوسری نوع ہیں تو یہ بات شاید کسی حد تک درست ہو۔ پہلی قسم کی خواتین کے لیے وہ مسائل حساس نہیں ہیں جو دوسری قسم کی خواتین کے لیے اہم ہوتے ہیں لہذا دونوں کو ایک جیسا مشورہ دینا بھی درست نہ ہو گا۔ اس لیے پہلی قسم کی خاتون اگر مجھ سے مشورہ مانگیں گی کہ خاوند مجھے سرکاری ملازمت درمیان میں چھوڑ دینے کا حکم دے رہا ہے تو میں یہی کہوں گا کہ خاوند کی اطاعت کرو اورملازمت ولازمت کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اس خاتون کو بھی شاید اس مشورے پر عمل میں ہی سکون میسر آئے گا کہ اس کی نفسیاتی ساخت ہی اسی قسم کے مشورے کو قبول کرنے کے لیے بنی ہے کہ اس کے مزاج میں انفعالیت (passivity) کا غلبہ ہے۔ اور دوسری قسم کی خاتون اگر ایسا مشورہ مانگیں گی تو میں شاید اسے یہ مشورہ نہ دے سکوں۔ اور اگر دے بھی دوں گا تو وہ بے کار جائے گا اور اس کی ذہنی اذیت بڑھ جائے گی کہ وہ ایسے مشورے قبول کرنے کے لیے پیدا ہی نہیں ہوئی کہ اس کے مزاج میں فعالیت (activity) ہے۔ تو یہ یا تو کونے کھدرے میں سڑ سڑ کر زندگی گزار لے گی یا پھر علیحدگی کا سوچے گی۔

باقی یہ جزوی باتیں ہیں کہ فلاں مسئلے میں خاوند کی زیادتی ہے یا بیوی کی۔ اور ان جزوی باتوں کا بھی تعین کرنا چاہیے کہ کسی مسئلے میں خاوند زیادتی پر ہو سکتا ہے بلکہ ہوتا ہے اور کسی مسئلے میں بیوی زیادتی پر ہو سکتی ہے بلکہ ہوتی ہے۔ پس اگر زیادتی کم ہو تو گزارا ہو جاتا ہے اور دل بڑا کرنا چاہیے۔ لیکن اگر زیادتی زیادہ ہو اور قابل برداشت نہ رہے تو پھر علیحدگی کا رستہ شریعت میں اسی لیے ہے۔

اب علیحدگی کے معاشرتی نقصانات ہیں، یہ بات بھی درست ہے۔ لیکن علیحدگی شریعت میں کوئی گالی نہیں ہے، البتہ اس کو ناپسند ضرور کیا گیا ہے۔ اور اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ ذہن میں رہے کہ مسائل تو ہر جگہ ہیں اور ہوں گے۔ تو عموماً کاؤنسلنگ میں یہی عرض کرتا ہوں کہ اس وقت اس آخری آپشن یعنی علیحدگی کا سوچو جب یہ دیکھو کہ اب مرنا، زندہ رہنے سے زیادہ محبوب ہو گیا ہے۔ تو اب بے شک علیحدہ ہو جاؤ۔ لیکن یہ کیفیت کہ مرنا، زندہ رہنے سے زیادہ محبوب ہو جائے، عارضی نہ ہو بلکہ مستقل ہو جائے کہ عارضی طور تو یہ کیفیت بھی انسان پر طاری ہوتی ہی رہتی ہے بلکہ غیر شادی شدہ پر بھی اپنے حالات سے تنگ ہونے کی وجہ سے طاری ہو جاتی ہے۔