ہمارے خواب کے تین میں سے کوئی ایک مصدر (origin) ہو سکتا ہے؛ شیطان، فرشتہ یا نفس۔ خواب یا تو شیطان کا وسوسہ ہوتا ہے یا فرشتے کا الہام یا نفس کی کار ستانی۔ بار بار اور تکرار سے آنے والے خواب فرشتے کی طرف سے عموما نہیں ہوتے بلکہ یا تو نفس کی طرف سے ہوتے ہیں یا پھر شیطان کی طرف سے۔ کچھ مکرر خوابوں (repeated dreams) میں تو فرق کرنا آسان ہے کہ وہ نفس کی طرف سے ہیں یا شیطان کی طرف سے جیسا کہ اگر تو مکرر خواب ڈراؤنے یا فحش ہیں مثلاً خواب میں بار بار سانپ، شیر، کتا، بلی، چھپکلی، گندگی اور نجاست وغیرہ دیکھنا تو یہ شیطان کی طرف سے ہیں۔ان خوابوں کے آنے کی ایک وجہ تو جادو ٹونا اور تعویذ گنڈا ہوتا ہے۔ اگر صورت حال ایسی ہی ہے تو اس کا علاج شرعی دم ہے اور اس کا اہتمام کرنے سے یہ خواب جاتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات ان خوابوں کی وجہ دین میں سستی بھی ہوتی ہے کہ اس سستی کی وجہ سے شیطان کو تنگ کرنے کا موقع ہاتھ آ جاتا ہے۔ مدینہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ایک عالم دین دوست نے بتلایا کہ انہیں خواب میں تین چار دنوں سے شیر نظر آ رہے تھے جو ڈرا رہے تھے۔ تو انہوں نے کسی سے مشورہ کیا تو ان صاحب نے کہا کہ آپ وتر کی نماز چھوڑ رہے ہیں۔ اور وہ واقعی میں تین چار دن سے وتر پڑھنے میں سستی کر رہے تھے تو جیسے ہی اہتمام کیا تو یہ خواب آنے بند ہو گئے۔

بعض اوقات ان خوابوں کی وجہ انسان کا نفس ہوتا ہے۔ اور ان کے نفسی ہونے کی علامت یہ ہے کہ یہ یونیورسل ہوتے ہیں یعنی رنگ، نسل اور مذہب کے امتیاز کے باوجود یہ خواب سب کو نظر آتے ہیں جیسا کہ آپ عموماً خواب میں دیکھتے ہیں کہ گاڑی ڈرائیو کر رہے ہیں اور آپ سے بریکیں نہیں لگ رہیں۔ یا آپ یہ دیکھتے ہیں کہ کمرہ امتحان میں پہنچنا چاہتے ہیں لیکن پہنچ نہیں پا رہے۔ یا آپ یہ دیکھتے ہیں کہ آپ کمرہ امتحان میں ہیں اور آپ سے مطلوبہ وقت میں پیپر حل نہیں ہو پا رہا۔ یا آپ یہ دیکھتے ہیں کہ آپ کہیں پہنچنا چاہتے ہیں لیکن آپ کو رستہ نہیں مل رہا۔ یا آپ یہ دیکھتے ہیں کہ آپ چڑھائی چڑھ رہے ہیں اور چڑھنے میں بہت دقت وہ رہی ہے۔ اور آپ ایسے تمام خواب ان دنوں میں دیکھتے ہیں جبکہ آپ اپنے حالات سے بہت پریشان ہوتے ہیں ۔ اور یونیورسل خواب کا عالمی اور علاقائی تہذیب وتمدن سے بہتگہرا تعلق ہوتاہے۔ دانتوں کے گرنے والے خوابوں کی زمانہ قدیم میں عام طور تعبیر رشتہ داروں کے فوت ہونے سے کی جاتی رہی ہے۔لیکن عالمی اور علاقائی ثقافت اور کلچربدل جانے کی وجہ سے اب قدیم تعبیریں غیر متعلق ہو گئی ہیں یا زیادہ متعلق نہیں رہ گئی ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ انسانی نفسیات بدل گئی ہے، اجتماعی لا شعور (collective unconsciousness) بدل گیا ہے، ظاہر باطن جیسے سب کچھ ہی بدل گیا ہے۔ اب خواب میں دانتوں کے گرنے کا زیادہ تعلق نفسیاتی مسائل سے ہے اوردانت گرنے سے عموماً مراد انسانی شخصیت کی ٹوٹ پھوٹ ہے۔

جب حقیقی زندگی میں کسی مسئلے میں حالات آپ کے کنٹرول سے باہر ہو جاتے ہیں اور آپ کا نفس اضطراب اور بے چینی (anxiety) کا شکار ہو جاتا ہے تو آپ کو عموماً ایسے خواب نظر آتے ہیں کہ گاڑی کی بریکیں نہیں لگ رہیں یا آپ کمرہ امتحان میں ہیں اور پیپر نہیں حل کر پا رہے ہیں۔ جن کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کے معاملات آپ کے ہاتھ میں نہیں آ رہے جبکہ آپ ان کو اپنے ہاتھ میں لانے کے لیے فکر مند اور کوشاں ہیں۔ اسی طرح خواب میں اپنے آپ کو بار بار اڑتا ہوا دیکھنا تو یہ حقیقی زندگی میں انسان کی بلند ہمتی اور بلند اہداف پر دلالت کرتا ہے کہ وہ انسان دنیا میں بلند مقام اور مرتبہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے پریشان اور فکر مند ہے اور یہی پریشانی خواب کی صورت ظاہر ہو گئی ہے۔ تو بعض اوقات خواب پریشانی کو پریشانی ہی بنا کر دکھاتا ہے اور بعض اوقات پریشانی کو راحت میں بدل دیتا ہے کہ انسان جس چیز کے لیے پریشان ہوتا ہے، وہ اسے خواب میں مل جاتی ہے تو اس سے نفس راحت پاتا ہے ۔ مثلاً کسی کو کسی جگہ شادی کی خواہش ہے اور جب یہ خواہش شدت پکڑ جاتی ہے تو انسان خواب میں اپنی شادی وہاں ہوتے دیکھتا ہے جہاں اس کی شادی کی خواہش ہے تو یہ نفسی خواب ہے کہ نفس نے اپنے آپ کو راحت پہنچانے کے لیے خواب کا رستہ اختیار کیا ہے۔ اور ایسے میں اگر خواب دیکھنے والا مذہبی ہو اور استخارہ بھی کر رہا ہو تو عین ممکن ہے کہ وہ اسے اپنے استخارے کا نتیجہ سمجھ لے جبکہ وہ اس کے نفس کی کار ستانی ہو۔ اس لیے خواب کی تعبیر کے لیے اس کے مواد (content) کا گہرا تجزیہ (deep analysis) بہت ضروری ہے۔

بعض اوقات متکرر خواب فرشتے کی طرف سے بھی ہو سکتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷐ نے حضرت عائشہ ﷞ کو کہا تھا کہ شادی سے پہلے مجھے تم تین مرتبہ ریشم میں لپٹی دکھائی گئی۔ تو فرشتے نے کہا کہ یہ آپ کی بیوی ہے۔ میں نے تمہارے چہرے سے کپڑا اٹھایا تو یہ تم تھی۔ اس پر میں نے کہا کہ اگر تو یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو پھر ایسا ہی ہو گا۔آپ ﷐ نے اس کی تعبیر نکاح سے کی اور پھر ایسا ہی ہوا۔ تو اگر کسی عورت کو خواب میں دیکھے کہ اس نے اپنا چہرہ اس سے کھول دیا ہے تو اس کی ایک تعبیر اس عورت سے نکاح بھی کی جاتی ہے، اگر تو یہ خواب فرشتے کی طرف سے الہام ہو تو۔ اور اگر نفس کی طرف سے ہو تو پھر نہیں۔ اور ایسا خواب نفس کی طرف سے ہونے کا ا مکان اس وقت ہو سکتا ہے جبکہ جسے خواب میں دیکھا ہو اس سے شادی کی رغبت اور خواہش، خواب دیکھنے سے پہلے سے موجود ہو۔اور اگر خواب دیکھنے سے پہلے ایسی کوئی رغبت اور خواہش موجود نہ تھی تو پھر یہ فرشتے کی طرف سے الہام ہو سکتا ہے اور غالب امکان یہی ہے کہ ایسے ہی ہو گا جیسا کہ اس نے دیکھا ہے۔