دوست کا سوال ہے کہ ہم نوجوانوں کو یہ تو معلوم ہے کہ زیر ناف کے بال مونڈنا چاہییں لیکن اکثر کو یہ کنفیوژن رہتی ہے کہ اس کی حدود کیا ہیں کیونکہ یہ کوئی نہیں بتلاتا اور علماء سے یہی سن رکھا ہے کہ شرعی مسئلہ پوچھنے اور بتلانے میں شرم آڑے نہیں آنی چاہیے۔ جواب: زیر ناف کے بال مونڈنا سنن فطرت میں سے ہے یعنی ان سنتوں میں اس کا شمار ہوتا ہے کہ جس کا تعلق انسان کی فطرت سے بھی ہے۔ اور یہ کل ملا کر دس سنتیں ہیں کہ اگر دین میں ان دس سنتوں پر عمل پیرا ہونے کا حکم نازل نہ بھی ہوا ہوتا تو بھی انسان اپنی صالح فطرت کی بنیاد پر یہ دس کام ضرور کرتا۔ اِن میں زیر ناف کے بال مونڈنے کے علاوہ بغلوں کے بالوں کی صفائی بھی شامل ہے۔ منہ کی صفائی بھی، ناخنوں کا کاٹنا اور ختنہ وغیرہ اس میں شامل ہے۔ ان تمام احکامات کا اصل مقصود انسان کی جسمانی طہارت اور صفائی ہے۔ جس طرح شریعت نے انسان کے باطن کی طہارت اور صفائی کا خیال رکھا ہے تو اسی طرح اسے اس کے ظاہر کی طہارت اور صفائی کا بھی حکم دیا ہے۔

تو سنن فطرت کا تعلق طہارت اور پاکیزگی سے ہے اور زیر ناف کے بال مونڈنے کے بارے احادیث میں “حلق العانة” کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ اب بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ جیسے ناف کے عین نیچے سے سارے بال صاف کرنے ہیں حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے۔ اور اس طرح سے تو انسان اپنے آدھے پیٹ کے بالوں کی صفائی کرتا رہے گا جبکہ اس حکم میں پیٹ کے بالوں کی صفائی مقصود نہیں ہے۔اس حکم کا مقصد در اصل طہارت ہے اور طہارت وہاں ہوتی ہے جہاں نجاست اور گندگی ہو لہذا شرم گاہ اور اس کے ارد گرد کا وہ حصہ جہاں پسینہ وغیرہ جمع ہونے کی وجہ سے میل کچیل اکٹھی ہو جاتی ہے اور بدبو پیدا ہو جاتی ہے یا جہاں بال ہونے کی وجہ سے نجاست کے ان بالوں میں اٹک جانے یا ان بالوں کی وجہ سے زیادہ بدبو پیدا ہونے یا ان میں میل کچیل جمع ہونے کے امکانات ہوتے ہیں تو وہاں سے بالوں کو ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب بعض لوگوں کے لیے شرم گاہ کا لفظ بھی مبہم رہے گا کہ اس سے کیا مراد ہے تو عرض ہے کہ فقہاء نے اس کی تفصیل میں کہا ہے کہ ذَکر (penis/vagina) ، خُصیتین (testicles) اور مَقعد (anus) پر اور اس کے کچھ ارد گرد کے بال صاف کرنا اس حکم کا مقصود ہے۔ اب میرے خیال میں وضاحت ہو گئی ہو گی۔ مزید تفصیل کے لیے گوگل امیج سے مدد لی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ سیکس ایجوکیشن میں کلپ آرٹ (clip art) سے مدد لینے میں حرج نہیں ہے ۔

پچھلے دنوں بعض نوجوانوں نے یہ مسئلہ پوچھا کہ ہمارا یوٹیوب چینل ہے کہ جس پر ہم سیکس ایجوکیشن کے لیے ویڈیوز ڈالتے ہیں تو کیا ہم ان ویڈیوز میں انسان کی برہنہ تصاویر دکھا سکتے ہیں۔ تو میں نے انہیں یہی جواب دیا کہ سیکس ایجوکیشن میں انسانوں کی برہنہ تصاویر اور ویڈیوز سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اور میری نظر میں اس قسم کے امیجز یا ویڈیوز سے ایجوکیٹ کرنا درست نہیں ہے۔ البتہ آپ کلپ آرٹ سے لوگوں کو ایجوکیٹ کر سکتے ہیں اور کلپ آرٹ کی آپشن، گوگل امیجز میں موجود ہوتی ہے یعنی آپ کسی بھی امیج کو کلپ آرٹ میں دیکھ سکتے ہیں۔ کلپ آرٹ، آرٹ ہی کی ایک قسم ہے کہ جس میں کوئی بات سمجھانے کے لیے گرافک آرٹ سے مدد لی جاتی ہے۔ کلپ آرٹ کو مزید سمجھنے کے لیے کہ یہ ہے کیا، اس اصطلاح کو گوگل کر لیں۔